Have a Question? Our team of professional 'Aalims and Scholars are always there to help and guide you!
0 like 0 dislike
292 views
in Hajj by

1 Answer

0 like 0 dislike
by admin Expert Answer

 اس کے بارے میں تفصیل ھے جس جانور کے قدرتی طور پر ہی سینگ نہ ہوں اسکی قربانی جائز ھے ۔

لیکن سینگ ٹوٹے ہوئے جانور کی قربانی کے بارے میں شریعت کا ضابطہ یہ ہیکہ 

اگر سینگ ٹوٹنے کا اثر دماغ تک پہنچ گیا ہو یعنی جڑ سے ہی سینگ ٹوٹ گیا ہو تو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں۔۔۔

 

 اور جس جانور کا معمولی سا سینگ ٹوٹا ہو کہ اثر دماغ تک نہ پہنچے تو اسکی قربانی جائز ہے ۔۔۔۔۔۔

واللہ اعلم باالصواب

We Offer Free Islamic Education WorldWide. Donate Here to Support Our Cause.
...