Have a Question? Our team of professional 'Aalims and Scholars are always there to help and guide you!
0 like 0 dislike
244 views
in Hajj by

1 Answer

0 like 0 dislike
by admin Expert Answer

جو شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو اس کے لیے ذی الحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد ناخن اور بال وغیرہ نہ کاٹنا مستحب ھے۔ اور ثواب کا باعث ہوگا۔۔

چنانچہ حدیث مبارکہ میں ہیکہ

" حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

" جب ماہ ذی الحجہ کا عشرہ شروع ہوجائے اور تم میں سے کسی کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو۔  تو وہ اپنے بال اور ناخنوں میں سے کچھ نہ لے( کاٹے نہیں) ۔۔" 

(صحیح مسلم) ۔۔

نیز یہ کہ

یہ ممانعت تنزیہی ھے ۔یعنی ایسا کرنا مستحب ھے ۔فرض یا واجب نہیں۔۔۔۔

لیکن اگر کسی نے عشرہ ذی الحجہ میں ناخن اور بال کاٹ لیے تو اسکا یہ عمل ناجائز نہیں کہلائے گا اور گناہ نہیں ملیگا ۔لیکن خلاف اولیٰ ہوگا ۔۔

البتہ اگر کسی شخص کے ناخن ،بال بہت زیادہ بڑھ گئے ہوں تو اس کے لیے کاٹنے میں کوئی حرج بھی نہیں۔۔۔۔

فقط واللہ اعلم

We Offer Free Islamic Education WorldWide. Donate Here to Support Our Cause.
...