Have a Question? Our team of professional 'Aalims and Scholars are always there to help and guide you!
0 like 0 dislike
268 views
in Saom (Fasting/Roza) by

1 Answer

0 like 0 dislike
by admin Expert Answer

حادیثِ مبارکہ میں رمضان المبارک سے ایک یا دو دن پہلے روزے رکھنے کی ممانعت وارد ہوئی ہے، لہذا تیس شعبان کا روزہ نہ رکھنا چاہیے، ہاں! اگر کوئی شخص ایسا ہے جو ہر پیر  اور جمعرات کو روزہ رکھتا ہو اور تیس شعبان پیر یا جمعرات میں سے کسی ایک دن آ گئی تو وہ روزہ رکھ سکتا ہے، اسی طرح اگر کوئی شخص پورے شعبان روزے رکھتا ہو تو وہ بھی تیس شعبان کا روزہ رکھ سکتا ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 381):
"(قوله: ولايصام يوم الشك) هو استواء طرفي الإدراك من النفي والإثبات، بحر (قوله: هو يوم الثلاثين من شعبان) الأولى قول نور الإيضاح: هو ما يلي التاسع والعشرين من شعبان أي؛ لأنه لايعلم كونه يوم الثلاثين؛ لاحتمال كونه أول شهر رمضان، ويمكن أن يكون المراد أنه يوم الثلاثين من ابتداء شعبان فمن ابتدائية لا تبعيضية، تأمل". 
فقط واللہ اعلم

...