Have a Question? Our team of professional 'Aalims and Scholars are always there to help and guide you!
0 like 0 dislike
320 views
in Saom (Fasting/Roza) by

1 Answer

0 like 0 dislike
by admin Expert Answer

اگر کسی نے رمضان کے مہینے میں شرعی عذر (مرض یا سفر) کے بغیر روزہ رکھا ہی نہیں تو یہ اتنا بڑا گناہ ہے کہ ساری زندگی روزے رکھ کر بھی وہ ثواب حاصل نہیں کیا جاسکتا جو اس دن روزہ رکھنے کی صورت میں حاصل ہوتا (مشکاۃ المصابیح)۔ البتہ اس صورت میں  صرف اس روزے کی  قضا  اور توبہ  لازم ہوگی، کفارہ لازم نہیں ہوگا۔

لیکن اگر   شرعی مسافر ہو یا ایسی بیماری  ہو جس میں روزہ رکھنا ممکن نہ ہو، یا مرض بڑھ جانے اور تاخیر سے شفا یاب ہونے کا غالب گمان یا تجربہ ہو یا مسلمان دین دار ڈاکٹر منع کرے تو ایسی بیماری کی وجہ سے رمضان المبارک کا روزہ چھوڑنے کی شریعت نے اجازت دی ہے، جب صحت یاب ہوجائے تو جتنے روزے چھوٹے ہوں ہر ایک روزے کے بدلے ایک روزے کی قضا کرنا ہوگی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 403):

"(أو أصبح غير ناو للصوم فأكل عمداً)، ولو بعد النية قبل الزوال؛ لشبهة خلاف الشافعي: ومفاده أن الصوم بمطلق النية كذلك ... (قضى) ... (فقط)".

...