Have a Question? Our team of professional 'Aalims and Scholars are always there to help and guide you!
0 like 0 dislike
316 views
in Islamic Finance by
recategorized

فتی صاحب- میں ایک کمپنی میں ملازمت کرتا ہوں، اور ساتھ ساتھ کچھ چھوٹے موٹے کاروبار بھی چل رہے ہیں۔ جو کہ میرے سیٹھ صاحب کے علم میں بھی ہیں اور ان کی طرف سے اجازت بھی ہے کہ ملازمت کے اوقات میں اپنے ذاتی کاروباری کام کر سکتا ہوں۔ ملازمت میں جہاں میرے ذمے بہت سارے کام ہیں وہاں ایک کام کمپنی کے کلائیٹ کے لیے خریداری بھی ہے۔ جب میں مارکیٹ سے خریداری کے لیے جاتا ہوں تو وہاں موجود سینکڑوں دکانوں میں ایک دکان میری بھی ہے۔ کیا میں مارکیٹ میں موجود سینکڑوں دوکانوں میں سے اپنی دوکان سے (وہی چیز اسی کوالٹی کی جو میری ملازمت والی کمپنی کو ضرورت ہے) خرید کر دے سکتا ہوں، مارکیٹ ریٹ یا مارکیٹ سے کم ریٹ میں؟ اور اگر میں اپنے سیٹھ صاحب کے علم میں نہیں ڈالتا تو کیا میرے لیے یہ جائز ہے؟

1 Answer

0 like 0 dislike
by admin Expert Answer

 صورت میں آپ كمپنی كےوكیل بالشراء ہیں‏، اور وكیل بالبیع والشراء كے لیے خود سے ہی معاملہ كرنا شرعا جائز نہیں ہے‏، خواہ   كم قیمت پر كرے یا زیادہ قیمت پر‏، كوالٹی اچھی ہو یا خراب؛ لہذا آپ اس سے بچیں ۔

(1488) (لوباع الوكيل بالشراء ماله لموكله لا يصح). ليس للوكيل بالشراء أن يشتري للموكل أربعة أنواع من الأموال:1 - ليس للوكيل بالشراء أن يشتري ماله لموكله، يعني لو اشترى الوكيل بالشراء مال نفسه لموكله لا يصح شراؤه، ولو قال: له: اشتر مال نفسك لي؛ لأن الشخص الواحد ليس له أن يتولى طرفي العقد انظر شرح المادة (167) .[درر الحكام في شرح مجلة الأحكام 3/ 599،الناشر: دار الجيل] نیز دیكھیں: بہشتی زیور اختری‏،5/35‏)۔

واللہ تعالیٰ اعلم

We Offer Free Islamic Education WorldWide. Donate Here to Support Our Cause.
...