مذكورہ بالا صورت میں اگر ذكر كردہ تفصیل واقعی درست ہے اور جناب عبد المعز نے ۹۰ دن كی ادھاری پر ۷۹۰ روپیہ فی ساڑی كے حساب سے مال خریدا تھا اور خرید تے وقت مال كو اچھی طرح دیكھ لیا تھا تو آپسی رضامندی سے عاقدین كے مابین جو قیمت طے ہوئی تھی مشتری پر اسی كی ادا یگی لازم ہے مشتری كا ۲۴۰ روپیہ فی ساڑی كے حساب سے قیمت ادا كرنا شرعا درست نہیں۔ جہاں تک ایسے آدمی سے مسجد ومدرسہ کے لیے زکاۃ یا امداد لینے کا مسئلہ ہے تو اگر وہ اپنے حلال اور پاکیزہ کمائی سے زکاۃ وامداد وغیرہ دیتا ہے تو فی نفسہ اس کے لیے میں مضائقہ نہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم